میری شہزادی !
میرے دل
کے سنگھاسن پہ دھونی رمائے کب سے نہ جانے
یونہی چپ
،سوچوں میں غرق
عقل و خرد
کی گتھیاں سلجھا رہی ہو
میں جب
تمھیں اتنے استغراق میں دیکھتا ہوں
محبت کے
احساس سے گراں بار کتنے ہی لفظ
ہزاروں ان
کہے ان سنے فسانے
دل کے کسی
کونے کھدرے میں دفنا دیتا ہوں
عقل ۔۔۔۔
محبت کی
دشمن
خدشوں کے گہرے منافق سایوں میں پلنے والی
مجبوریوں
کی پروردہ
منطق کی
اونچی مسند پہ بیٹھی
کب رستوں
کو آسان بناتی ہے
میری
شہزادی !
تمھاری
محبت نے میرے حساب بے حساب کر دیے ہیں
یہ حیات
دوروزہ کتنی طویل ہو گئی ہے
جدائی کی
سیاہ رات
میرے کتنے ہی سورج کھا گئی ہے
میری
شہزادی !
تیرے وجود سے ہے میرے لفظوں کی مہک
تیری
یادوں سے کتنی ہی کہانیاں عنوان پا جائیں
تو جو نہ ہو
تو بہاروں میں پیڑ نڈھال ہو جائیں
یہ ہوائیں
کہیں رستوں میں بھٹک جائیں
میری ہستی
کے دروبام آپس میں الجھ جائیں
یہ سارے
خطرے موجود ہیں اور تم اب بھی
ظن و تخمین کے الٹے پھیروں میں الجھی
میری
شہزادی !
تمھیں بہت
مان ہے ناں عقل کی ان اونچی اڑانوں پر
تو ذرا
وقت کا بھی احساس کرو
ابھی کتنے درد ہیں باقی حساب کرو
ابھی کتنے درد ہیں باقی حساب کرو

اچھی نظم
ReplyDelete